Floating Vertical Bar With Share Buttons widget by techiterian

مذہبی منافرت اور دو قومی نظریہ


مذہبی منافرت اور دو قومی نظریہ

 

کوشش کروں گا کہ اس کالم میں روایتی انداز میں رونا دھونا کرنے کی بجایے حل بھی پیش کیا جائے-  دو قومی نظریہ سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں-  ان میں سے ایک قوم گایے کی پوجا کرتی ہے تو دوسری اس کو کھاتی ہے-  اگر ان دونوں کو ایک ملک میں اکھٹا رکھا جائے تو یہ کبھی امن سے نہیں رہ سکتیں کیونکہ جمہوریت میں ہمیشہ اکثریت حکومت کرتی ہے-  اور حکومت کے دوران ہندوقوم کا انصاف پسند رہنا  اتنا  ہی آسان ہے  جتنا سورج  کا مغرب  سے نکلنا-  آپریشن  بلیو سٹار، کشمیر، گجرات، بابری مسجد وغیرہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں-

دو قومی نظریے کا نتیجہ پاکستان ہے-  قائداعظم سے ایک ہندو صحافی  نے پوچھا پاکستان میں کونسا اسلام نافذ ھوگا؟  ان کا جواب تاریخی تھا،  اسلام اپنی بدترین شکل میں شرک اور کفر سے بہتر ہے-  اب پاکستان میں  یہ تجربہ  یا نظریہ  ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے-  اگر کسی نظریے کو اسکی روح کے مطابق  کام  ہی  نہ کرنے دیا جائے تو وہ نظریہ  ناکام نہیں کہا جا  سکتا  بلکہ اس کو صحیح انداز میں لاگو کرنے کی ضرورت ہے-  اب ہم  یہ دیکھتے  ہیں کہ ہو کیا رہا ہے؟  ہمارے کچھ بردار مسلم ملک پاکستان میں فنڈنگ کر رہے ہیں جو کہ منافرت پھیلانے کے کام آ رہی ہے-  کچھ غیرمسلم دوست بھی اس میں حصہ ڈال رہے ہیں-  نتیجہ آپ کے سامنے ہے-  ہر روز مسلمان دوسرے مسلمان کو مذہب کے نام پر قتل کر رہا ہے،  عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے  اور کچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ مذہب سے   جان چھڑا لینی چاہیے-

پاکستان بیرونی طاقتوں کو الزام دے کر بری الذمہ نہیں ہو جاتا-  ان تمام چیزوں کا حل ممکن ہے-  اب آپ کو وہ حل بتاتے  ہیں جو اتنا مشکل بھی نہیں ہے اور بہت زیادہ آسان بھی نہیں ہے مگر ناممکن تو ہرگز نہیں ہے-  تمام مساجد میں تمام امام اور مولوی حضرات صرف حکومت وقت کو رکھنے چاہیئں-  یہ نمونہ ایران، سعودی عرب، ترکی اور بہت سے ممالک میں کامیابی سے چل رہا ہے اس لئے یہ کوئی ایسی نیئی اختراع نہیں ہے-  ان تمام امام حضرات کو مقابلے کے امتحان کی طرز پر نفسیاتی اور شخصی امتحانات سے گزارنے کے بعد بہت اچھی سہولیات اور تنخواہ دینی  چاہیئے-  صرف وہ  لوگ  جو سرکاری طور پر منظور شدہ اداروں  سے  فارغ التحصیل ہوں انھیں  امامت سونپی جائے- حکومت انھیں ہدایات جاری کرے کہ اختلافی امور کی بجایے متفقہ امور پر بات کریں اور ان کی تعلیمات کو مانیٹر کیا جائے-  ہمارا المیہ یہ ہے کہ آرمی آفیسر، پولیس آفیسر، کمشنر، جج وغیرہ بننے  کے لئے  تو  بہت امتحانات ہیں مگر ایک امام یا پرائمری اسکول ٹیچر بننے کے لئے نہیں-  وہ لوگ جنہوں نے اس قوم کے روحانی، دینی اور دنیاوی مستقبل کی نگہداشت اور نگرانی کرنی ہے ہمیں ان کی کوئی فکر ہی نہیں کہ کیا  وہ اس قابل ہیں بھی کہ نہیں؟

Popular Posts